جمعرات 11 جون 2026 - 01:21
ولایتِ امیر المؤمنین (ع) ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ہے

حوزہ/ حوزہ علمیہ کے استاد اخلاق نے قرآن و روایات میں اسلام اور ایمان کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کو ایمان کے بنیادی ارکان میں سے قرار دیا اور غدیر، مباهلہ اور سورہ انسان کے نزول کے مواقع کا حوالہ دیتے ہوئے اہل بیت علیہم السلام کے دین کی تکمیل اور امت اسلامی کی ہدایت میں ممتاز مقام پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد محمد باقر تحریری نے جامعۃ الزہرا (س) کے منتظمین اور ماہرین کی موجودگی میں اس حوزوی مرکز کے حسینیہ امام خمینی (رہ) میں منعقدہ درس اخلاق میں قرآن کریم میں ایمان کے تصور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: خداوند متعال قرآن میں فرماتا ہے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ وہ مؤمن ہوگئے ہیں بلکہ یہ کہیں کہ انہوں نے اسلام لایا ہے کیونکہ ابھی تک ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اس آیت کریمہ کی بنا پر، قرآن کریم کی نظر میں ایمان کا مطلب غیب کی دنیا، مبدأ، معاد، الہی ادیان اور آسمانی کتابوں پر یقین رکھنا ہے۔

حوزہ علمیہ کے استاد اخلاق نے آیت «آمن الرسول» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: اس آیت میں بھی اسی حقیقت پر زور دیا گیا ہے؛ یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان سب چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جو خدا کی جانب سے نازل ہوئی ہیں اور دوسروں کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔

استاد تحریری نے کہا: اسلامی روایات نے ایمان کے دائرے کو زیادہ دقیق اور محدود طریقے سے بیان کیا ہے۔ممکن ہے کسی شخص کا غیب کی دنیا پر عقیدہ ہو لیکن وہ الہی تعلیمات کے ایک حصے کو قبول کرے اور دوسرے حصے کو نہ مانے۔ خالص ایمان اس وقت حقیقت بنتا ہے جب انسان وہ سب کچھ قبول کر لے جو خدا نے نازل کیا ہے، چاہے وہ عبادی، سماجی، خاندانی اور سیاسی احکام ہی کیوں نہ ہوں۔

حوزہ علمیہ کے استاد نے مزید کہا: اسلامی سیاسی احکام کے دائرے میں بھی اگر خدا نے کسی شخص کو معاشرے کے رہنما کے طور پر متعارف کرایا ہے تو اس کی پہچان اور قبولیت مؤمنین کا فریضہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha